بیمار ہونے کے بعد کھانے کی خواہش کیوں ختم ہو جاتی ہے؟

جب کوئی فرد بیمار ہوتا ہے تو اکثر کھانے کی خواہش ختم یا گھٹ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا اسرار ہے جسے ماہرین کافی عرصے سے حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب انہوں نے آخرکار یہ جان لیا ہے کہ بیمار ہونے پر کھانے کی اشتہا کیوں ختم ہو جاتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کس طرح ہمارا جسم بیمار ہونے پر دماغ کو کہتا ہے کہ اب کھانا نہیں چاہیے۔ تحقیق میں معدے میں موجود ایسے خصوصی خلیات دریافت کیے گئے جو پیرا سائیٹس (بیمار کرنے والے جرثومے) دریافت کرکے ایسے سگنلز بھیجتے ہیں جو دماغ کو اشتہا دبانے کے لیے متحرک کرتے ہیں۔ امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عمل وقت کے ساتھ بڑھتا ہے اور اس سے وضاحت ہوتی ہے کہ بیماری کے شروع میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر پھر اچانک کھانے میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ درحقیقت جب بیماری ختم ہو جاتی ہے تو بھی کھانے کی اشتہا فوری طور پر بحال نہیں ہوتی۔ اس تحقیق میں معدے میں موجود 2 ایسے خلیات پر توجہ مرکوز کی گئی جن کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ٹفٹ سیلز جسم میں داخل ہونے والے پیراسائیٹس کو شناخت کرکے مدافعتی دفاع کو متحرک کرتے ہیں جبکہ Enterochromaffin سیلز کیمیائی سگنلز خارج کرتے ہیں جو دماغ تک پہنچتے ہیں۔ Enterochromaffin خلیات ہی مختلف احساسات جیسے قے، درد اور پیٹ درد وغیرہ کا باعث بنتے ہیں، مگر اب تک واضح نہیں تھا کہ کہ وہ ٹفٹ سیلز سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق کے دوران لیبارٹری میں تجربات سے معلوم ہوا کہ کسی انفیکشن پر جب ٹفٹ سیلز متحرک ہوتے ہیں تو وہ دیگر خلیات کے لیے سگنلز خارج کرتے ہیں اور یہ سگنلز Enterochromaffin سیلز تک پہنچتے ہیں جو دماغ تک سگنلز بھیجتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ خلیات کا باہمی تعلق بنیادی طور پر کھانے کی اشتہا ختم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے وضاحت ہوتی ہے کہ بیمار ہونے کے بعد پہلے تو اچھا محسوس ہوتا ہے مگر جب بیماری کا اثر ظاہر ہوتا ہے تو کھانے کی اشتہا ختم ہو جاتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔

کیٹاگری میں : صحت