انسانی جسم ایک حیرت انگیز نظام ہے، مگر عمر کے ساتھ جسم میں مختلف جوڑ خاص طور ہر گھٹنوں کے جوڑ متاثر ہو کر ’آسٹیو آرتھرائٹس‘ جیسے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ماضی میں اس کا علاج عارضی سکون یعنی صرف درد کم کرنے والی دوائیں تھا، لیکن اب طبی ماہرین ایسے جدید طریقے متعارف کروا رہے ہیں جو مریضوں کی حرکت کو دوبارہ بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ آسٹیو آرتھرائٹس دراصل آرتھرائٹس کی سب سے عام اور معروف قسم ہے، جسے عام طور پر ”جوڑوں کا گھس جانا“ یا ”گٹھیا کا مرض“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آرتھرائٹس کی سب سے عام قسم ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہڈیوں کے سروں پر موجود حفاظتی ’نرم ہڈی‘ وقت کے ساتھ گھس جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیاں آپس میں رگڑ کھانے لگتی ہیں اور اس عمل سے شدید درد اور حرکت میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔ اس بیماری کے وجوہات میں بڑھتی عمر، جسم کا زیادہ وزن اور طویل عرصے تک جوڑوں پر پڑنے والا غیر معمولی بوجھ جیسے عوامل شامل ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ سائنسی اشاعتی ادارے ”پبلک لائبریری آف سائنس“ کے جدید طبی جریدے ’پلوس ون’ میں شائع ہونے والی ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گھٹنوں کے درد کے لیے استعمال ہونے والی عام ادویات اکثر فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ ہم درد کو دبانے کے لیے جو گولیاں کھاتے ہیں، وہ عارضی طور پر تو اعصاب کو سن کر دیتی ہیں، مگر مرض کی جڑ تک نہیں پہنچتیں، بلکہ ان دواؤں کے طویل استعمال سے کئی طبی خطرات وابستہ ہوتے ہیں۔ ان درد کش ادویات کا مسلسل استعمال معدے کی سوزش اور دل کے امراض جیسے سنگین ضمنی اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس، تحقیق یہ بتاتی ہے کہ غیر ادویاتی طریقے نہ صرف زیادہ محفوظ ہیں بلکہ ان کے نتائج بھی دیرپا ہیں۔ درحقیقت یہ تحقیق ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ صحت کا راستہ ’کیمسٹ کی دکان‘ سے نہیں بلکہ ’طرزِ زندگی کی تبدیلی‘ سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ تحقیق محض چند افراد پر نہیں، بلکہ تقریباً 10،000 مریضوں کے ڈیٹا کے بڑے تجزیے پر مبنی ہے۔ سائنسدانوں نے مریضوں کے ڈیٹا کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کے بعد تین ایسی حکمتِ عملیوں کو روایتی ادویات پر فوقیت دی ہے، جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن کر حیرت انگیز نتائج دے سکتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم ’حرکت میں برکت‘ کا وہ قدیم مقولہ ہے جو ورزش کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ’مخصوص‘ اور ’باقاعدہ‘ جسمانی ورزشیں دراصل جوڑوں کے گرد موجود پٹھوں کو وہ غیر معمولی طاقت اور لچک فراہم کرتی ہیں، جو ہڈیوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو اپنے اوپر لے لیتی ہیں۔ یہ عمل جوڑ کے اندرونی دباؤ کو کم کر کے قدرتی طریقے سے درد کی شدت میں کمی لاتا ہے۔ دوسرا اہم راستہ گھٹنے کے بریسیز کا استعمال ہے، جو بظاہر سادہ سے آلات نظر آتے ہیں لیکن ان کی افادیت نہایت گہری ہے۔ یہ معاون آلات جوڑ کی قدرتی ترتیب کو برقرار رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی میکینیکل سپورٹ ہے جو کسی بھی کیمیائی دوا کے مقابلے میں زیادہ براہِ راست اثر دکھاتی ہے۔ جب جوڑ اپنی صحیح جگہ پر رہتا ہے، تو رگڑ کم ہوتی ہے اور مریض خود کو زیادہ محفوظ اور پراعتماد محسوس کرتا ہے، جس سے ادویات پر انحصار خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔ تیسرا اور نہایت پرسکون راستہ واٹر تھراپی کا ہے، جو ان افراد کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جن کے لیے زمین پر چلنا یا عام ورزش کرنا دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے۔ پانی کے اندر ورزش کرنے کا سب سے بڑا فائدہ اس کی اچھال کی خاصیت ہے، جو انسانی جسم کا تقریباً تمام وزن اپنے اوپر اٹھا لیتی ہے۔ اس حالت میں جوڑوں پر کسی قسم کا بوجھ پڑے بغیر پٹھے مکمل طور پر متحرک ہو جاتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف جسمانی سوزش کو کم کرتا ہے بلکہ مریض کو وہ تحرک فراہم کرتا ہے جو خشک زمین پر شاید ممکن نہ ہوتا۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ کم لاگت اور ہر جگہ دستیاب تھراپیز مستقبل میں گھنٹوں کے علاج کا بنیادی حصہ بن سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف علاج سستا ہوگا بلکہ مریضوں کے لیے سہولت بھی بڑھے گی۔ جوڑوں کا درد محض جسمانی تکلیف نہیں بلکہ یہ جسم کی ایک پکار ہے کہ اسے توجہ اور حرکت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا صرف ادویات پر انحصار کرنے کے بجائے، قدرتی اور سائنسی طریقۂ علاج پر غور کرنا اور معالج کی نگرانی میں ان پر عمل کرنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔






