اگر آپ امراض قلب، ذیابیطس اور دماغی تنزلی سمیت متعدد سنگین امراض سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا بہت آسانی سے ممکن ہے۔ درحقیقت اس کے لیے آپ کو روزانہ چند منٹ کی سخت جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ یورپین ہارٹ جرنل کی تحقیق میں 96 ہزار کے قریب افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق میں ان افراد کی جسمانی سرگرمیوں کا موازنہ 8 اہم امراض کے خطرے میں کمی سے کیا گیا۔ تحقیق کے لیے ان افراد کے ایک ہفتے کی جسمانی سرگرمیوں کے ڈیٹا کو حاصل کیا گیا اور دیکھا گیا کہ چند منٹ کی سخت جسمانی سرگرمیوں سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتےہ یں۔ ان افراد کی صحت کا جائزہ 7 سال تک لیا گیا اور دیکھا گیا کہ اس عرصے میں کتنے افراد امراض قلب، ذیابیطس، ورم سے جڑے امراض، جگر کے امراض، نظام تنفس کے امراض، گردوں کے امراض اور ڈیمینشیا سے متاثر ہوئے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چند منٹ کی سخت جسمانی سرگرمیوں جیسے سیڑھیاں چڑھنے، کچھ دیر کے لیے بھاگنے یا تیز رفتاری سے چلنے سے مختلف دائمی امراض سے متاثر ہونے اور موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ یہ حفاظتی اثر ورم سے جڑے امراض جیسے جوڑوں کی تکلیف، سنگین امرض قلب جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج اور ڈیمینشیا سے زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ چند منٹ کی سخت جسمانی سرگرمیوں سے ڈیمینشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ 63 فیصد، ذیابیطس کا خطرہ 60 فیصد اور قبل از وقت موت کا خطرہ 46 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں کی نوعیت مخصوص امراض سے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں، جیسے جوڑوں کے امراض کا خطرہ فوری طور پر گھٹ جاتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ یہ ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ جسمانی سرگرمیوں سے دائمی امراض اور قبل از وقت موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مگر اس سوال کا جواب ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ سخت جسمانی سرگرمیوں اور ہلکی جسمانی سرگرمیوں سے مجموعی طور پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محققین کے مطابق ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیوں سے بھی صحت کو فائدہ ہوتا ہے مگر سخت سرگرمیاں زیادہ تحفظ فراہم کرتی ہیں، کیونکہ ان سے دل زیادہ مؤثر انداز سے خون پمپ کرتا ہے، خون کی شریانیں لچکدار ہو جاتی ہیں اور جسم کی آکسیجن استعمال کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔






