خلیجی تعاون کونسل کا ایرانی حملے روکنے کیلئے سلامتی کونسل سے تحفظ کا مطالبہ

خلیجی تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے ایران کے علاقائی حملوں کو رکوائے اور خلیجی آبی گزرگاہوں میں بلا تعطل جہاز رانی کو یقینی بنائے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاسم البدیوی نے ایرانی حملوں کو بین الاقوامی قانون اور… ان کا کہنا ہے کہ کونسل تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ خطے میں سلامتی بحال ہو اور فضائی و سمندری راستے محفوظ رہیں۔ جاسم البدیوی نے زور دیا کہ ایران سے متعلق کسی بھی مذاکرات یا معاہدے میں خلیجی تعاون کونسل کے تمام 6 رکن ممالک سعودی عرب، قطر، بحرین، عمان، کویت اور متحدہ عرب امارات کو شامل کیا جائے تاکہ مستقبل میں کشیدگی اور حملوں کو روکا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ فوری طور پر حملے بند کرنا، خطے میں استحکام بحال کرنا، عالمی سپلائی چینز کا تحفظ اور توانائی کی منڈیوں کو محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں روزانہ کی بنیاد پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے تھے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں دفاع کے تحت امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی شدید متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دبئی سے رپورٹنگ کرتے ہوئے ’الجزیرہ‘ کے صحافی زین بصراوی نے بتایا ہے کہ جنگ طول پکڑنے کے ساتھ خلیجی ممالک میں تشویش بڑھ رہی ہے، زیادہ تر ایرانی حملوں کا رخ خلیجی ریاستوں کی طرف رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق خلیجی ممالک کی بنیادی ترجیح فوری جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہے تاکہ مزید حملوں اور عدم استحکام کو روکا جا سکے۔