نوبل انعام کے مساوی ایک عالمی سطح کا ایوارڈ دو پاکستانی آرٹسٹوں کا نام

 آج تھوڑی دیر پہلے نوبل انعام کے مساوی ایک عالمی سطح کے ایوارڈ میں دو پاکستانی آرٹسٹوں کا نام آیا ہے۔ خیبر پختونخواہ کی لوک سنگر زار سنگہ اور پنجاب کے صوفی گائیک سائیں ظہور شامل ہیں۔
نوبل پرائز سائنس، امن اور ادب وغیرہ کے شعبوں میں دیا جاتا ہے۔ موسیقی اور آرکیٹکچر بھی انسانی تخلیقیت کے بھرپور زریعے ہیں۔ پرنس کریم آغا خان نے آغاخان ایوارڈ فار آرکیٹکچر کا 1980 میں اور آغا خان میوزک ایوارڈ کا 2018 میں اجرا کیا۔
آغاخان ایوارڈز کے ساتھ ملنے والی رقم بھی کم و بیش اتنی ہی ہے جتنی نوبل پرائز کی رقم ہے۔
اس سال میوزک ایوارڈ جیتنے والوں میں انڈیا سے استاد ذاکر حسین، پاکستان سے زار سنگہ اور سائیں ظہور، افغانستان سے داؤد خان سدوزائی سمیت دنیا بھر سے آرٹسٹ شامل ہیں۔ 15 ناموں میں سے صرف ایک کا تعلق انگلینڈ سے ہیں۔ باقی آرٹسٹ پسماندہ علاقوں میں فن کا دیا روشن رکھنے والے فنکار ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے فن کو ان کے معاشروں میں وہ توقیر نہیں ملی جس کا وہ حق رکھتے تھے۔
ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں فنکاروں کے بال منڈوائے جا رہے ہیں اور ان کے سارندے توڑے جا رہے ہیں، ایسے میں داؤد سدوزائی جیسے فنکاروں کے کندھے پر اس ایوارڈ کے زریعے تھپکی دینا اور ان کے فن کو توقیر بخشنا خوشی کی بات ہے۔
فن اور فنکاروں کا احترام سدا سلامت رہے۔