عراف کا عظیم دریا دجلہ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے بائبل دور کے باغ عدن کو سیراب کیا تھا اور انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیب اسی کا پانی پی کر پروان چڑھی تھی۔ لیکن آج دریائے دجلہ خود مر رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیاں پیدا ہوئیں اور ان تبدیلیوں نے دجلہ کے زبردست بہاؤ کو روک دیا ہے۔ یہ کچھ نیچے جا کر دریائے فرات سے ملتا ہے اور انہی دو دریاؤں نے اس خطے کو ہزاروں سال قبل میسوپوٹیمیا (بین النہرین) کی تہذیب کا گہوارہ بنایا تھا۔
دریائے دجلہ عراقی شہروں موصل، بغداد اور بصرہ کے شہروں کو جوڑتا ہے اور اسے ان شہروں کی لائف لائن قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اس دریا پر بنائے جانے والے ڈیموں کی وجہ سے اب یہ خود پیاس سے مر رہا ہے۔ زیادہ تر ڈیم اوپر ترکی کے علاقے میں بنائے گئے ہیں۔
عراق میں بہنے والے دریائے دجلہ کا سفر شمال میں ترکی اور شام کی سرحدوں کے قریب خود مختار کردستان کے پہاڑوں سے ہوتا ہے۔
دارالحکومت بغداد کے قریب مرکزی میدانی علاقوں میں دجلہ سے نکلنے والی ایک معاون ندی دیالہ میں اب جو کچھ باقی بچا ہے، وہ ٹھہرے ہوئے پانی کے جوہڑ ہیں۔ خشک سالی نے اس آبی گزرگاہ کو خشک کر دیا ہے، جو خطے کی زراعت کے لیے انتہائی اہم تھی۔اس سال عراقی حکام نے زیر کاشت علاقوں کو نصف تک کم کر دیا ہے یعنی بری طرح سے متاثرہ دیالہ میں کوئی فصل نہیں اگائی جائے گی۔
اس موسم گرما کے دوران دجلہ کی سطح اتنی نیچے گر گئی تھی کہ بغداد کے لوگ دریا کے بیچوں بیچ والی بال کھیلتے تھے۔
بغداد کے سیوریج کا پانی اور کوڑا کرکٹ بھی سکڑتے ہوئے دجلہ میں جاتا ہے، جس سے آلودگی پیدا ہو رہی ہے اور ایک ایسا زہریلا سوپ بن رہا ہے، جو سمندری حیات اور انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے۔






