ایران: 6 امیدواروں کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت، احمدی نژاد کو اجازت نہ ملی

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد قبل از وقت صدارتی انتخابات کے لیے ایرانی شوریٰ نگہبان نے 6 صدارتی امیداروں کے ناموں کی منظوری دے دی، جب کہ سابق صدر احمدی نژاد کو نااہل قرار دیدیا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے  کی رپورٹ کے مطابق ایران میں رواں ماہ کے آخر ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایران کی شوریٰ نگہبان نے 6 صدارتی امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی۔ ایران میں صدارتی انتخابات 28 جون کو ہوں گے، صدارتی امیداروں میں پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور سابق اسپیکر محمد باقرقلیباف، سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی جو 4 سال تک سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا سرکاری دفتر بھی چلاتے رہے ہیں۔ صدارتی امیدواروں کے ناموں کو فائنل کرنے والے اعلیٰ ترین فورم شوریٰ نگہبان نے سابق صدر احمدی نژاد اور سابق پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی کے کاغذات مسترد کر دیے ہیں، انہیں ماضی میں بھی ایک بار شوریٰ نگہبان کی طرف سے انتخاب میں حصہ لینے سے روکا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ ایران میں انتہائی مذہبی حکومتی نظام ہے جس کی قیادت سپریم لیڈر خامنہ ای کر رہے ہیں، شوریٰ نگہبان میں علما پر مشتمل پینل امیدواروں کے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتا ہے، یہ پینل سپریم لیڈر خامنہ ای کی سرپرستی میں کام کرتا ہے۔ ایران کی سرکاری میڈیا پر الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے اس فہرست کا اعلان کیا گیا، جنہیں ایرانی شوریٰ نگہبان کی جانب سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی، ان میں تہران کے سابق میئر علی رضا ذکانی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، قانون ساز مسعود بزشكيان، سابق وزیر داخلہ مصطفىٰ پورمحمدی، قدامت پسند سیاستدان أمير حسين قاضی زاده ہاشمی شامل ہیں۔ اس سے قبل ایران کے الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ 28 جون کو ہونے والے انتخابات کے لیے 17 امید واروں نے رجسٹریشن کروائی ہے۔ خیال رہے کہ ابراہیم رئیسی 2021 میں صدر منتخب ہوئے تھے اور معمول کے شیڈول کے تحت صدارتی انتخاب 2025 میں ہونا تھا، تاہم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں انتقال کے بعد صدارتی انتخابات قبل ازوقت منعقد ہورہے ہیں، حادثے میں وزیر خارجہ امیر حسین اور دیگر 6 ایرانی عہدیدار بھی جاں بحق ہوئے تھے۔ ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد ایران کے آئین کے تحت نائب صدر محمد مخبر قائم مقام صدر بن گئے تھے۔