سولر پینلز مزید سستے

ملک بھر میں سولر پینلز مزید سستے ہوں گے، خام مال اور دیگر آلات پر ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بجٹ 2024 کی تقریر کے دوران سولر پینل انڈسٹری کے فروغ کے لئے درآمد پر رعایت دینے کا اعلان کیا۔ بجٹ تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ مقامی ضرورت کے لیے سولر پینلز برآمد کرنے یا تیار کرنے پر رعایتیں دی جارہی ہیں۔ سولر پینلز اب چاند کی روشنی میں بھی بجلی پیدا کریں گے، نئے شمسی ماڈیولز متعارف وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پلانٹ، مشینری، اس سے منسلک آلات اور سولر پینلز، انورٹرز، بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایتیں دی جارہی ہیں ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ان رعایتوں کا مقصد درآمد شدہ سولر پینلز پر انحصار کم کیا جاسکے اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جاسکے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ آئندہ مالی سال بجٹ 25-2024 میں ملک میں سولرانرجی کے فروغ کے لیے اس کے خام مال پر ٹیکس کی غیر معمولی چھوٹ دی گئی ہے جس کے بعد سولر پینل، سولر انورٹر، سولر بیٹری سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی۔ فنانس بل 2024-25، انکم ٹیکس میں مجوزہ اضافہ، کتنی تنخواہ پر کتنا ٹیکس کٹے گا؟ فنانس بل کے مطابق حکومت نے بجٹ میں سولر سیل مینوفیکچر کے تقریباً خام مال پر ٹیکس ختم کردیا ہے، گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں اس کے خام مال پر 3 فیصد ٹیکس عائد تھا، اس کے علاوہ فنانس بل کے مطابق حکومت نے سولر پی وی ماڈیولز پینل کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشین اور آلات پر بھی ٹیکس صفر کردیا۔ اسی طرح حکومت نے سولر انورٹر کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشین یا آلات پر بھی ٹیکس صفر کردیا ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں لتیم آئن بیٹریوں کی مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والی مشینری اور آلات پر ٹیکس ختم کردیا ہے۔