25 اکتوبر کو لاہور اورنج لائن ٹرین کو 2 سال مکمل ہوگئے اور اس دوران 25 اکتوبر 2020 کو ٹرین کے افتتاح سے لے کر اب تک تقریباً 5 کروڑ مسافرں نے اس ٹرین سے استفادہ کرتے ہوئے سفر کیا ہے۔
لاہور میں اورنج لائن ٹرین پروجیکٹ کے آپریشن کی ذمہ دار کمپنی کی جانب سے تقریب منعقد کی گئی جس میں چین کے قونصل جنرل، چینی انجینئر، پاکستانی عملے، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم اے) کے اعلیٰ عہدیداروں اور دیگر نے شرکت کی۔
اورنج لائن ٹرین کے نمائندے نے بتایا کہ ٹرین نے ڈھائی کروڑ کلو میٹر سفر کیا اور 99.99 فیصد وقت کی پابندی کے ساتھ 2 لاکھ دورے مکمل کیے، کمپنی میں 97 فیصد مقامی عملہ ہے جبکہ اس میں 50 کروڑ مسافروں نے سفر کیا۔
پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ 25 اکتوبر 2020 سے لے کر 25 اکتوبر 2021 تک 2 کروڑ مسافروں نے سفر کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 اکتوبر 2021 سے لے کر 25 اکتوبر 2022 تک مسافروں کی تعداد بڑھ کر 3 کروڑ تک پہنچ گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مسافر میٹرو ٹرین پر سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تقریب میں اورنج لائن ٹرین پروجیکٹ کے حوالے سے ویڈیوز دکھائی گئیں اور بہترین کارکردگی پر اسٹاف کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔
واضح رہے کہ اورنج لائن ٹرین علی ٹاؤن سے ڈیرہ گجران تک 26 اسٹیشن سے ہر پانچ منٹ بعد روزانہ صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک سفر کرتی ہے۔
اورنج لائن ٹرین پروجیکٹ، چین ریلوے گروپ لمیٹڈ اور چین کی شمالی انڈسٹری کی جانب سے تعمیر کیا گیا جبکہ نورینکو انٹرنیشنل گوانگزو میٹرو گروپ اور ڈائیوو پاکستان ایکسپریس بس سروس لمیٹڈ پر ٹرین کے آپریشن اور دیکھ بھال کا انتظام ہے، اس پروجیکٹ کی وجہ سے 2 ہزار لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع ملے۔
واضح رہے کہ اس پروجیکٹ نے اربن ریل ٹرانزٹ کی کیٹیگری میں سال 2021 کے بہترین برانڈ کا ایوارڈ حاصل کیا جبکہ برانڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے سال 2021 کے بہترین سی ای او کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔






