پرویز الہی کے معاملے میں اپنایا گیا طریقہ قابل قبول نہیں: چوہدری شجاعت

پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کے گھر پر پولیس آپریشن کے حوالے سے کہنا ہے کہ پرویز الہی کے معاملے میں اپنایا گیا طریقہ قابل قبول نہیں۔
چوہدری شجاعت حسین نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جس سے ملکی سطح پر معاملات مزید خراب ہوں، پاکستان بہت پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، کچھ لوگ واقعات کو غلط رنگ دے کر پاکستان میں عجیب کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں اس رات کو پیش آنے والے واقعے پر روشنی ڈالوں گا، پولیس پرویز الہٰی کے گھر گئی تو انہیں بتایا گیا کہ پرویز الہٰی چوہدری شجاعت کے گھر ہیں، پولیس والے پرویز الہٰی کے گھر کو چھوڑ کر میرے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔
چوہدری شجاعت نے بتایا کہ پولیس میرے دروازے پر پہنچی تو دونوں بیٹے دروازے کے دوسری طرف تھے، پولیس والے آگے بڑھ رہے تھے تو میرے دونوں بیٹوں نے انہیں روکا، پولیس نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی، دروازے کے شیشے ٹوٹ گئے، مگر دروازہ نہ ٹوٹ سکا۔
انہوں نے بتایا کہ میرے دونوں بیٹے اس صورتِ حال میں زخمی ہو گئے، چوہدری سالک کے ہاتھ پر ٹانکے لگے، 2 گھنٹے کی کوشش کے بعد پولیس دروازے سے واپس گئی۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر نے بتایا کہ پولیس والوں سے سوال کیا گیا کہ کس کیس میں یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے؟ پولیس نے بتایا کہ گجرات میں سڑکوں کے تعمیری ٹھیکوں میں اربوں روپے کمیشن کے الزامات ہیں، انٹرنیشنل فرم سے کمیشن کے طور پر اربوں روپے وصول کرنے کے بھی الزامات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے بتایا کہ اس سے زیادہ تفصیلات ہمارے پاس نہیں، میرا یا میرے دونوں بیٹوں کا ایسے کسی معاملے سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا، اس سارے معاملے پر جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ قابلِ قبول نہیں، جس طرح بکتر بند گاڑی کے ساتھ مین گیٹ توڑا گیا، میں سختی سے مذمت کرتا ہوں۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اس معاملے کے پیچھے جو بھی ہے حکامِ بالا اسے کیفرِ کردار تک پہنچائیں، میں کسی اور موقع پر تفصیل سے بات کروں گا، دونوں بیٹوں سے کہا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رہیں۔