وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے دورے کے موقع پر وزیراعظم کو این ڈی ایم اے کی جانب سے مون سون، ممکنہ سیلابی صورتحال اور متعلقہ حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم عالمی ثالثی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو ایک مؤثر اور کثیر المقاصد قومی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور مکانات تباہ ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطرات سے بروقت آگاہی فراہم کرنے میں این ڈی ایم اے کا کردار قابل تحسین ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اس کی کوششیں لائق ستائش ہیں۔






