وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارتی آبی جارحیت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے حال ہی میں اپنی جانب سے پانی کا کچھ حصہ راجستھان کی نہر میں چھوڑا ہے، جس سے پاکستان کے زرعی اور آبی وسائل متاثر ہو سکتے ہیں۔ وزیر نے اس بات پر بھی زور… نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جنگ کے بعد بھارت نے چھوٹے ڈیموں میں پانی روکا اور پھر چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے چھوٹے ڈیموں میں پانی چھوڑ کر فصل تباہ کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ بھارت میں اس بار بعض مقامات پر ساڑھے300فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاک بھارت سرحد سے ملحقہ علاقوں میں ساڑھے600فیصد تک زیادہ بارش ہوئی۔ بھارت میں سیلابی ریلے نے ایک ڈیم کے4دروازے اڑا دیے۔ بھارت نے کچھ پانی راجستھان کی نہر میں بھی چھوڑا ہے، تاہم اس وقت پانی کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ پانی اس وقت ہمالیہ کے کنٹرول میں بھی نہیں تو بھارت کیا کرسکتا ہے، اس وقت سیلاب سے پاکستان سمیت بھارت میں بھی تباہی ہوئی ہے۔ بھارت کے پہلے طرح آبی جارحیت کے عزائم ہیں لیکن اس بار قدرتی آفت زیادہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سفر کے باوجود وزیر اعظم کی نظر سیلابی صورتحال پر ہے۔ روزانہ ہدایات دیتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی صورتحال کو مانیٹر کررہے ہیں۔ مصدق ملک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پورا ملک یکجا ہوچکا ہے، وفاق صوبائی حکومتوں کے ساتھ کھڑا ہے۔






