کسی بھی امریکی حملے کے جواب میں تل ابیب کو نشانہ بنایا جائے گا: ایران

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سکریٹری علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ کا آغاز سمجھا جائے گا۔ علی شمخانی نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں ایران فوری، جامع اور بے مثال ردعمل دے گا جس میں تل ابیب کو نشانہ بنانا بھی شامل ہوگا۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران کی دفاعی کونسل کے رکن علی شمخانی نے یہ انتباہ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں دیا، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی حالیہ تعیناتی کے ردعمل میں تھا۔ علی شمخانی نے محدود فوجی حملے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نوعیت کی کارروائی کو جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے لکھا کہ ’محدود حملہ ایک خام خیالی ہے۔ امریکا کی جانب سے کسی بھی مقام اور کسی بھی سطح پر کی جانے والی فوجی کارروائی کو جنگ کی ابتدا سمجھا جائے گا اور اس کا جواب فوری، جامع اور بے مثال ہوگا جو تل ابیب کے قلب اور جارح کے تمام حامیوں کو نشانہ بنائے گا‘۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، وینیزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑے بیڑے کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی طرح، یہ بحری بیڑا بھی ضرورت پڑنے پر طاقت، تشدد سے اپنے مشن کو فوری مکمل کرنے کا اہل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا، امید ہے ایران منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گا، کوئی جوہری ہتھیار نہیں، ایسا معاہدہ جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔