کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس: قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں کے نقصان پر سخت تشویش

کراچی(سید طلعت الکاظمی الموسوی) کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی محکمہ انجینئرنگ کے افسران نے چیف سیکریٹری سندھ اور میونسپل کمشنر کے ایم سی کے نام پر ایک اور ڈائریکٹ کنٹریکٹ دینے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، چند ماہ کے دوران مذکورہ ٹھیکہ 42 واں ڈائریکٹ کنٹریکٹ قرار دیدیا۔ کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے کے ایم سی میں فنڈز کی مبینہ بندر بانٹ اور ڈائریکٹ کنٹریکٹ کے ذریعے قومی خزانے کو پہنچائے جانے والے نقصان پر آخر کارفیلڈ مارشل سے مدد مانگ لی ہے جبکہ وزیر اعلی سندھ، گورنر سندھ سمیت کور کمانڈر کراچی اور اعلی تحقیقاتی اداروں سے بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے بلدیہ عظمی کراچی میں سیپرا رولز اور قوانین کو مبینہ طور پر ردی کی نذر کرکے قومی خزانے کو پہنچائے جانے والے بھاری نقصان اور کراچی کی ابتر صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس چیئرمین ایس ایم نعیم کاظمی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں صدر رضا علی عابدی،جنرل سیکریٹری عابد برنی،شائق احمد، انجینئر احسن احمد، محمد بابر علی، سید شفیع حیدر کاظمی اور انجینئر عبدالصمد نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلدیہ عظمی کراچی محکمہ انجینئرنگ کی جانب سے ضلع کورنگی ابراہیم حیدری روڈ کی تعمیر کا ڈائریکٹ کنٹریکٹ دیئے جانے کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا، اجلاس میں اس ٹھیکے کو گذشتہ چند روز کے دوران ہونے والے ڈائریکٹ کنٹریکٹ میں 42 واں نمبر بتایا گیا۔ اراکین کا کہنا تھا کہ کے ایم سی میں من پسند کنٹریکٹرز کو نوازنے کیلئے قوانین کو پس پشت ڈال کر ڈائریکٹ کنٹریکٹ دینے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور ہماری اطلاعات کے مطابق چند ماہ کے دوران 41 ڈائریکٹ کنٹریکٹ دیئے جاچکے ہیں جبکہ ابراہیم حیدری روڈ کی تعمیر کا  مذکورہ ٹھیکہ 42 واں ڈائریکٹ کنٹریکٹ ہے،اجلاس میں کہا گیا کہ ان ڈائریکٹر کنٹریکٹ کے ٹھیکوں میں چیف سیکریٹری سندھ اور میونسپل کمشنر کے ایم سی کانام استعمال کیا جارہا ہے۔ کراچی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ضلع شرقی میں10 کروڑ سے زائد لاگت سے تعمیر کئے گئے رحیم بخش سومرو روڈ کے ڈائریکٹ کنٹریکٹ پر بھی ایسوسی ایشن نے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر میئر مرتضی وہاب نے تین روز میں رپورٹ طلب کرنے کا اعلان کیا لیکن تین ماہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود نہ کوئی انکوائری کی گئی اور نہ رپورٹ منظر عام پر لائی جاسکی ہے۔کراچی کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی میں قومی خزانے کو بے دردی سے نقصان پہنچائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اس حوالے سے ایسوسی ایشن کے صدر رضا علی عابدی نے بڑھتی ہوئی کرپشن کے خلاف انصاف کیلئے عدالت عالیہ سے رجوع کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایسوسی ایشن نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اعلی سندھ، گورنر سندھ، کور کمانڈر کراچی سمیت اعلی تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں