پاکستان کے سابق ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی نے قومی ٹیم کی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سلیکٹر عاقب جاوید کو اپنے فیصلوں کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔ جیسن گلیسپی کا کہنا ہے کہ باہر سے دیکھنے پر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی خوف کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے سلیکشن پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی لیکن دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کرکے تیسرے میچ سے قبل وطن واپس بھیج دیا گیا، آخر یہ کیسے قابلِ فہم ہے؟ سابق کوچ نے الزام عائد کیا کہ ٹیم میں سلیکشن کی کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی اور فیصلے مسلسل تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عاقب جاوید گزشتہ دو برس سے چیف سلیکٹر ہیں اس لیے موجودہ صورتحال کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے انہیں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ گلیسپی نے کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالے جانے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بعض کھلاڑیوں کو اپنے اخراج کی اطلاع میڈیا، اہلخانہ یا دوستوں کے ذریعے ملی جو انتہائی بے توقیری ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف پہلے دونوں ٹیسٹ میچز میں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سیریز کا آخری میچ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں کھیلا جائے گا۔






