اگر آپ اپنے اسمارٹ فون کے لیے نیا چارجر خریدنا چاہتے ہیں تو مارکیٹ میں متعدد آپشنز دستیاب ہوں گے۔ ہمیشہ کمپنیوں کا چارجر خریدنا بہتر ہوتا ہے مگر عام طور پر وہ کافی زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھرڈ پارٹی چارجر زیادہ فروخت ہوتے ہیں جن کی قیمت بھی کافی کم ہوتی ہے جبکہ فاسٹ چارجنگ بھی فراہم کرتے ہیں۔ مگر ان سستے چارجر کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں ایسے بنیادی پرزہ جات موجود نہیں ہوتے جو ڈیوائس کو چارج محفوظ طریقے سے مسلسل فراہم کرتے ہیں۔ چونکہ یہ سستے چارجر مسلسل کرنٹ فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس سے لیتھیم آئیون بیٹری پر تناؤ بڑھتا ہے اور اس کے کیمیائی تنزلی کی رفتار بڑھ جاتی ہے جبکہ گنجائش بھی گھٹ جاتی ہے۔ تو آسان الفاظ میں اس طرح کے سستے چارجر طویل المعیاد بنیادوں پر فون کی بیٹری کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سستے چارجر ضروری نہیں کہ آپ کے فون کو مسلسل درست وولٹیج فراہم کرسکیں۔ اگر والٹیج اوپر نیچے ہو تو اس سے چارجنگ پورٹ کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ بیٹری متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ویسے ضروری نہیں کہ آپ اسی کمپنی کا چارجر یا کیبل استعمال کریں جس کا فون استعمال کر رہے ہیں کیونکہ اب زیادہ تر فونز میں یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ اور کیبل استعمال ہوتی ہے۔ تو کسی اور کمپنی کے چارجر یا کیبل کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے مگر کسی اچھی کمپنی کے چارجر اور کیبل کو ترجیح دینا چاہیے۔ موجودہ عہد میں بیشتر فونز بہترین چارجنگ اور بیٹری منیجمنٹ سسٹمز سے لیس ہوتے ہیں۔ فونز میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہ سستے چارجر کے ساتھ بھی محفوظ طریقے سے چارج ہوں، بس وہ آفیشل چارجر کی بجائے سست روی سے فون کو چارج کرتے ہیں۔ مگر ان سستے چارجر میں وہ سیفٹی فیچرز موجود نہیں ہوتے جو کمپنی کے آفیشل چارجرز میں موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سستے چارجر اس وقت بھی والٹیج کی فراہمی جاری رکھتے ہیں جب کیبل خراب ہو جس کے نتیجے میں چارجر یا فون زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔ تو جس حد تک ممکن ہو فون کے لیے اچھی کمپنی کے چارجر کا انتخاب کریں اور سستے چارجر استعمال کرنے سے گریز کریں۔






