الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے آج مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ ہوگئے، وزیرقانون سینیٹر اعظم نزیرتارڑ کا پی ٹی آئی راہنما سینیٹر علی ظفر ایڈووکیٹ سے رابطہ ہوا ہے۔ جس میں بات چیت کے عمل کو شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکمران جماعتوں کے اندرالیکشن کے معاملے پر سفارشات کی تیاری کے لئے کمیٹی کے ارکان کے ناموں پر آج غورہوگا، جے یو آئی تحفظات کے باعث مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق آج حکمران جماعتوں کی داخلی کمیٹی کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دینے پر غور ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات آج شام چھ بجے سینیٹ میں شروع ہوں گے.
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے شاہ محمود قریشی، علی ظفر اور فواد چوہدری شامل ہیں۔
اس سے قبل سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں تھریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کیلئے ٹائم فریم دینے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا، اور چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت مذاکرات کیلئے مجبورنہیں کرسکتی، مذاکرات حکم نہیں صرف تجویز ہے مذاکرات کیلئے ابھی کوئی ہدایت یا ٹائم لائن نہیں دے رہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت نے نیک نیتی دکھانے کیلئے کیا اقدامات کیے، لگتا ہے صرف پاس پاس کھیل رہی ہے، اگر مذاکرات کے ذریعے حل نہ نکلا تو آئین بھی اور ہمارا فیصلہ بھی موجود ہے۔






