کیا بریسٹ کینسر سے نجات کا کوئی قابلِ اعتماد علاج ممکن ہے؟ جانئے جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟

بریسٹ کینسر، جو پہلے صرف بڑی عمر کی خواتین تک محدود سمجھا جاتا تھا، اب نوجوان خواتین میں بھی تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔ عام طور پر چالیس سال سے کم عمر کی خواتین میں بریسٹ کینسر بڑی عمر کی خواتین کی نسبت زیادہ شدت سے اثر انداز ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے نوجوان خواتین میں اکثر بڑے سائز کے ٹیومر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوان خواتین عام طور پر میمو گرام نہیں کرواتیں، جس کے نتیجے میں بیماری کی تشخیص ہونے میں زیادہ تاخیر ہوجاتی ہے۔ بریسٹ کینسر میں مبتلا نوجوان خواتین اکثر ذہنی اور جسمانی تناؤ محسوس کرتی ہیں۔ کیونکہ وہ کام، رشتوں اور ماں بننے کی خواہش رکھتے ہوئے علاج میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں ماہر صحت کی جانب سے بریسٹ کینسر کے علاج کیلیے ایک نسخہ تجویز کیا گیا ہے جس کو بنانے کا آسان طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نسخہ ایلو پیتھک طریقہ علاج کے دوران بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کسی معالج کی تجویز کردہ ادویات استعمال کررہی ہیں تو یہ نسخہ بھی علاج میں مددگار ثابت ہوگا۔ نسخہ بنانے کی ترکیب اور استعمال اس کے اجزاء میں صرف دو چیزیں شامل ہیں پہلی میتھی دانے ایک چمچ اور دوسری جڑی بوٹی ’دھناسا‘ جسے انگریزی میں فگونیا کہتے ہیں۔ ایک چمچ۔ ان دونوں کو مکس کرکے پاؤڈر بنائیں اور رات کو سونے سے قبل دودھ کے ساتھ ایک چمچ ملاکر پئیں۔ اس سے بریسٹ کینسر کی شکار خواتین کے مسائل میں کمی آئے گی۔ نوٹ: مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

کیٹاگری میں : صحت