نسلہ ٹاور کیس: ملزمان بری، منظور کاکا کو “کلین چٹ” ملنے پر سوالات اٹھ گئے

کراچی (سید طلعت شاہ) سپریم کورٹ کے حکم پر فروری 2022 میں منہدم کیے گئے متنازعہ نسلہ ٹاور کیس میں اینٹی کرپشن سندھ کی عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے سابق افسران سمیت تمام 27 ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ کے جج امین اللہ صدیقی نے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی زمین الاٹ کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے سابق ڈائیریکٹر جنرل ایس بی سی اے سمیت دیگر ملزمان کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا۔
بری ہونے والوں میں سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور قادر کاکا، سابق ڈائریکٹر علی مہدی کاظمی، سابق ڈائریکٹر علی غفران، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سمیع صدیقی اور علی ظفر جعفری سمیت دیگر ملزمان شامل ہیں۔تاہم، اس فیصلے کا سب سے حیران کن پہلو سندھ کے سابق بااثر بیوروکریٹ منظور کاکا کو دی جانے والی “کلین چٹ” ہے، جس نے ملک بھر میں شکوک و شبہات کو جنم دے دیا ہے۔
منظور کاکا، جو برسوں تک کرپشن کے الزامات کے بعد بیرونِ ملک روپوش رہا، اچانک پاکستان واپس آیا اور اینٹی کرپشن حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس گرفتاری کو کئی حلقوں میں بڑی پیشرفت سمجھا گیا، تاہم چند ہی ماہ میں منظور کاکا کو عدالت نے بری کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ جیسے یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ کھیل کا حصہ تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ منظور کاکا سمیت کسی بھی ملزم پر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، حالانکہ متعدد رپورٹس اور سرکاری دستاویزات میں منظور کاکا پر غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی اور اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات موجود تھے۔قانونی ماہرین اور عوامی حلقے اس فیصلے پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔
نسلہ ٹاور کیس وہ علامتی مقدمہ تھا، جسے کراچی میں زمینوں پر قبضے، غیر قانونی تعمیرات اور طاقتور بیوروکریسی کی ملی بھگت کے خلاف ایک مثال سمجھا جا رہا تھا۔ لیکن موجودہ فیصلے نے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
کیا منظور کاکا کی واپسی اور بریت کے پیچھے کوئی خفیہ ڈیل تھی؟
کیا اینٹی کرپشن کے ادارے جان بوجھ کر کمزور مقدمات تیار کر رہے ہیں؟
کیا عدالتیں بھی اس منظم نظام کا حصہ بن چکی ہیں جو طاقتور مجرموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے؟
منظور کاکا جیسے طاقتور اور بااثر افراد جب عدالتوں سے باآسانی “کلین چٹ” حاصل کر لیتے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں واقعی کسی بھی بااثر شخص کا احتساب ممکن ہے؟ نسلہ ٹاور کیس کی حالیہ پیش رفت نے نہ صرف قانون کی عملداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں، بلکہ کرپشن کے خلاف جاری جدوجہد کو بھی کمزور کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں