کراچی (طلعت شاہ) حکومتِ سندھ کے ماتحت ادارے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی مبینہ نااہلی، اندرونی سرپرستی اور کمزور احتساب کے باعث اسکیم 33 کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ صورتحال نہ صرف کراچی کے ماسٹر پلان، ماحولیات اور انفراسٹرکچر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ قومی و صوبائی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
طلعت شاہ جرنلسٹ و سوشل ورکر کی تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایس بی سی اے کے وہ افسران و اہلکار جو ماضی میں غیر قانونی تعمیرات میں سہولت کاری یا چشم پوشی کے الزامات پر معطل کیے گئے تھے، انہیں بغیر شفاف اور منطقی انکوائری کے دوبارہ انہی عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ اس اقدام نے ادارہ جاتی احتساب پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور بلڈرز مافیا کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اس ضمن میں پریزیڈنٹ ایکشن فار ہیومینٹی، وائس چیئرمین آل پاکستان جرنلسٹس کونسل اور سرپرست اعلیٰ مائی نیوز نیٹ ورک طلعت شاہ کی جانب سے اسکیم 33 میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایس بی سی اے کو باقاعدہ شکایات جمع کرائی گئیں، جن کے ریفرنس نمبرز درج ذیل ہیں:
SCRM-20260128-15، SCRM-20260128-16، SCRM-20260128-17، SCRM-20260128-18
تاہم ان شکایات پر مؤثر کارروائی کے بجائے تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ اسسٹنٹ کم ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل اکرم قریشی کی مبینہ سرپرستی کے تحت متعلقہ شکایات پر عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کو دانستہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اگر ان شکایات پر فوری اور ٹھوس کارروائی نہ کی گئی تو یہ معاملہ سندھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں فرائض کی انجام دہی میں غفلت کے تحت باقاعدہ درج کرنے کی درخواست ہے۔
ماہرینِ شہری منصوبہ بندی کے مطابق اسکیم 33 میں ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی تعمیرات سے ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے، نکاسیٔ آب کے مسائل، ٹریفک دباؤ، بنیادی سہولیات پر بوجھ اور سرکاری وسائل کے ضیاع میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بالآخر معیشت کو اربوں روپے کے نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔
دوسری جانب سندھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اب تک مؤثر پراسیکیوشن نہ ہونا بھی سوالیہ نشان ہے۔ عوامی و صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے نہ صرف اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ یہ صورتحال پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتِ سندھ کے لیے بھی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔
سول سوسائٹی، ماہرین اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدار اور جامع تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے اینٹی کرپشن سرکل کے ذریعے کرائی جائیں، تاکہ ایس بی سی اے، اینٹی کرپشن اور بلڈرز مافیا کے مبینہ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ شفاف احتساب کے بغیر کراچی کو غیر قانونی تعمیرات کے اس ناسور سے نجات ممکن نہیں۔






