فالو اَپ: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ناکام، کھارادر ساؤتھ میں کوئی ایکشن نہیں

کراچی( سید طلعت شاہ) ڈسٹرکٹ ساؤتھ، کھارادر میں سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 اور کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 (ترمیم شدہ) کی سنگین خلاف ورزی سامنے آ گئی ہے، جہاں پلاٹ نمبر GK 5/5 اور GK4/5 پر منظور شدہ چار منزلہ عمارت کے اوپر مزید تین غیر قانونی منزلیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ یہ تعمیرات نہ صرف نقشہ منظوری کے بغیر جاری ہیں بلکہ کراچی کے ماسٹر پلان کی منظم تباہی کا باعث بھی بن رہی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 غیر منظور شدہ تعمیرات، اضافی فلورز اور طے شدہ حدود سے تجاوز کو جرم قرار دیتا ہے، جبکہ کے بی ٹی پی آر 2002 کے تحت فلور ایریا ریشو، عمارت کی اونچائی، سیٹ بیکس، پارکنگ، اسٹرکچرل اور فائر سیفٹی کی پابندی لازم ہے۔ مذکورہ پلاٹ پر جاری تعمیرات ان تمام ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جس سے نہ صرف عمارت بلکہ اردگرد آبادی کے لیے بھی شدید خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے تمام معاملات میں ڈائریکٹر ساؤتھ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی براہِ راست ذمہ دار ہوتے ہیں، کیونکہ فیلڈ نگرانی، اسٹاپ ورک نوٹس کا اجرا، تعمیرات کی سیلنگ اور قانون کے مطابق انہدام ان کی قانونی ذمہ داری ہے۔ اس کے باوجود غیر قانونی تعمیرات کا تسلسل نفاذِ قانون پر سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اضافی منزلوں کی تعمیر سے سیوریج، پانی اور بجلی کے مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی راستوں کی عدم موجودگی انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
قانونی طریقے سے تعمیرات کرنے والے بلڈرز کا کہنا ہے کہ وہ تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرتے ہیں، مگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے انہیں شدید معاشی نقصان اور عدم مساوات کا سامنا ہے، جو قانون کے یکساں نفاذ کے اصول کے منافی ہے۔
شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقاتی ادارے اور متعلقہ ریاستی ایجنسیاں فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ کراچی کے ماسٹر پلان کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل کراچی کی بحالی اور شہر کی منظم ازسرِنو تشکیل کا وژن، جیسا کہ سپہ سالار اور کمانڈر ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پیش کیا ہے، اسی وقت ممکن ہے جب غیر قانونی تعمیرات اور ادارہ جاتی بے قاعدگیوں کے خلاف بلا امتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی اور ماسٹر پلان کا تحفظ ہی کراچی کو محفوظ، منظم اور قابلِ رہائش شہر بنا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں