عوام کی جمع پونجی لوٹنے کا نیا فارمولا! سوسائٹیز، دیوالیہ اور پلی بارگین

سید طلعت شاہ

پاکستان میں پراپرٹی سیکٹر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فراڈ کی زد میں آ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایک نیا اور منظم طریقہ واردات سامنے آیا ہے جس کے تحت ہزاروں شہریوں کی عمر بھر کی جمع پونجی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور کمرشل پلازہ منصوبوں کے نام پر لوٹ لی جاتی ہے، جبکہ متاثرین برسوں انصاف کے لیے دربدر رہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس فراڈ کا آغاز عوام سے بڑے پیمانے پر سرمایہ اکٹھا کرنے سے ہوتا ہے۔ پرکشش اشتہارات، آسان اقساط اور بلند منافع کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے شہریوں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین اور متاثرین کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل میں صرف ڈویلپرز ہی نہیں بلکہ بعض بااثر سہولت کار اور ادارہ جاتی عناصر بھی شامل ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ فراڈ طویل عرصے تک جاری رہتا ہے اور مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔

اگلے مرحلے میں اچانک منصوبے کی تعمیر روک دی جاتی ہے اور عوام کو بتایا جاتا ہے کہ سوسائٹی یا کمپنی دیوالیہ ہو گئی ہے۔ متاثرین کے مطابق کئی منصوبے جان بوجھ کر ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں تاکہ سرمایہ واپس نہ کرنا پڑے۔ اس کے بعد متاثرہ شہری عدالتوں، پولیس اور سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ کئی خاندان مالی تباہی، ذہنی دباؤ اور شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ متعدد کیسز میں متاثرین انصاف کی تلاش میں اپنی زندگیاں بھی گنوا بیٹھتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ مایوس ہو کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

جو چند متاثرین نیب یا دیگر احتسابی اداروں تک پہنچ بھی جائیں، انہیں بھی مکمل رقم واپس نہیں ملتی۔ پلی بارگین اور جزوی ریکوری کے ذریعے ادارے اپنی کارکردگی کے دعوے ضرور کر لیتے ہیں، مگر اصل نقصان عوام ہی کا رہتا ہے جبکہ اصل ملزمان اکثر بچ نکلتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں اصل نقصان کس کا ہوتا ہے؟ ریاست پاکستان کا، جس کی ساکھ اور معیشت متاثر ہوتی ہے، یا ڈویلپرز اور ڈیلرز کا جو فائدہ اٹھا کر نکل جاتے ہیں، یا پھر اس سادہ لوح عوام کا جو اپنی زندگی بھر کی کمائی بچوں کے مستقبل کے لیے لگا دیتی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پراپرٹی منصوبوں کی سخت ریگولیشن کی جائے، سرمایہ اکٹھا کرنے سے پہلے مکمل قانونی منظوری لازمی قرار دی جائے، فراڈی عناصر کے خلاف فوری مقدمات اور سخت سزائیں یقینی بنائی جائیں اور متاثرین کو مکمل رقم کی واپسی کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پراپرٹی فراڈ کا یہ بحران قومی معیشت اور عوامی اعتماد کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں