خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاک فوج نے بھرپور اور شدید جواب دیا۔ کارروائی کے دوران دشمن کی کئی پوسٹس شدید نقصان کا شکار ہوئیں اور آگ بھڑک اٹھی۔ دو پوسٹیں اور ایک ٹینک پوزیشن مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جبکہ طالبان اپنی متعدد لاشیں… سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کرم سیکٹر میں پاک فوج کی کارروائی انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی گئی۔ دشمن کے چلتے ٹینک کو نشانہ بنایا گیا اور اسے تباہ کر دیا گیا۔ ایک گھنٹے کے اندر افغان طالبان کی چوتھی ٹینک پوزیشن بھی شمشاد پوسٹ کے قریب تباہ کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ فتنہ الخوارج اور طالبان کے کارندے شدید گھبراہٹ میں پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوئے، جبکہ اہم کارروائی میں فتنہ الخوارج کے ایک اہم کمانڈر کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب بھی پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج نے بلااشتعال حملہ کیا تھا۔ جس کے جواب میں پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد افغان طالبان اور خارجی ہلاک ہوئے، جبکہ پاک فوج کے 23 جوان شہید اور 29 زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد متعدد بار کابل سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے تاہم افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ افغان سرزمین کسی ہمسایہ ملک پر حملوں کے لیے استعمال نہیں کی جاتی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین نے بھی پاک افغان کشیدگی میں کمی لانے میں مدد کی پیشکش کی تھی جب کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دونوں ممالک کے درمیان ماحول کو ‘کشیدہ’ قرار دیا تھا۔ 9 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ شہدا نے اپنے خون سے لکیر کھینچ دی ہے، اب فیصلے کا وقت آچکا ہے، اب دہشت گردی سے متعلق ٹھوس فیصلے کرنے ہیں۔ شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ یہ دوست نما دشمن خوارج افغانستان سے آکر دہشت گردی کرتے ہیں، جس ملک نے ان کو عزت دی اس کے خلاف دشمنی کر رہے ہیں۔






