کراچی (سید طلعت شاہ / روحیل صدیقی)
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے زیرِ انتظام ڈسٹرکٹ ساؤتھ کھارادر میں غیر قانونی تعمیرات کا ایک سنگین معاملہ پلاٹ نمبر GK 5/5 پر منظرِ عام پر آیا ہے، جہاں پہلے سے قائم چار منزلہ عمارت کے اوپر مزید تین منزلیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف بلڈنگ قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ سندھ حکومت میں مبینہ طور پر قائم منظم بدعنوانی کے نظام کا منہ بولتا ثبوت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ غیر قانونی تعمیرات طویل عرصے سے جاری ہیں، تاہم بااثر عناصر کی مبینہ سرپرستی کے باعث متعلقہ ادارے مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتِ سندھ اس منظم کرپشن کے نظام کے خاتمے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ مزید یہ کہ عدالتوں سے سزا یافتہ افراد اور ایف آئی آرز میں نامزد افسران و اہلکاروں کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ انہیں ترقی دے کر دوبارہ کرپشن کے میدان میں اتار دیا گیا، جس سے احتسابی عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
قانونی طریقے سے تعمیرات کرنے والے بلڈرز سب سے زیادہ متاثر ہیں، جو قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے بھاری اخراجات برداشت کرتے ہیں، جبکہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے انہیں شدید مالی اور پیشہ ورانہ نقصان کا سامنا ہے۔ متاثرہ بلڈرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار اعلیٰ حکام سے رجوع کیا، مگر مبینہ بلڈر مافیا کے سامنے کوئی مؤثر قدم نہ اٹھایا جا سکا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے باعث سیوریج، پانی اور بجلی کے مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اضافی منزلوں کی تعمیر سے مقامی انفراسٹرکچر پر ناقابلِ برداشت دباؤ پڑ رہا ہے، مگر بارہا شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ایس بی سی اے کے مبینہ طور پر کرپٹ عملے کی اسی مقام پر دوبارہ تعیناتی کو شہری حلقے ناقابلِ فہم اور باعثِ تشویش قرار دے رہے ہیں۔
ان حالات میں کراچی کے عوام، علاقہ مکین اور متاثرہ فریقین انصاف کے لیے سپہ سالار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بلا تفریق احتساب کی پالیسی کے باعث کراچی کی عوام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بے حد محبت اور اعتماد رکھتی ہے اور انہیں کراچی پر مسلط بدعنوان ٹولے کے خاتمے کی ایک مضبوط کرن سمجھتی ہے۔ عوام کو امید ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور منظم بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے قانون کی بالادستی، شفافیت اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔







