(س ط عباس شاہ)
ضلع قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن میں واقع فیروز دین ٹاک میموریل چرچ گھنیکے پر ہونے والا حالیہ حملہ محض ایک عبادت گاہ میں توڑ پھوڑ کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور ریاستی انصاف کے دعوؤں کا ایک اور امتحان ہے—ایسا امتحان جس کی یادداشت میں جڑانوالہ کا سانحہ آج بھی تازہ ہے۔
چرچ کے انچارج طارق مسیح ولد قادر مسیح کی درخواست پر تھانہ کوٹ رادھا کشن میں ایف آئی آر نمبر 22/26 درج کی گئی۔ پولیس دستاویزات کے مطابق واقعہ 5 جنوری 2026 کو علی الصبح تقریباً چار بجے اس وقت سامنے آیا جب چرچ عبادت کے لیے کھولا گیا۔ مرکزی دروازے کے اطراف نصب جالیاں توڑی جا چکی تھیں، پاک میز اور ڈائس کے گلدان الٹے پڑے تھے، مقدس کتب زمین پر پھینک کر پھاڑی اور مسلی گئی تھیں، جبکہ چرچ میں نصب ساؤنڈ سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔
درخواست گزار اور عینی شاہدین کے مطابق یہ کارروائی کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ مذہبی علامات کو نشانہ بنانے کی واضح کوشش معلوم ہوتی ہے، جس سے مقامی مسیحی آبادی میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ واقعے کے عینی شاہدین میں بشیر ولد گدر مسیح اور خادم ولد حاکم مسیح شامل ہیں۔
پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295 اور 295-A کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم حتمی نتائج تفتیش سے مشروط ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تفتیش واقعی کسی انجام تک پہنچے گی؟ اس سوال کا پس منظر جڑانوالہ ہے، جہاں 26 گرجا گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا، مسیحی آبادی کے گھروں کو جلایا گیا اور اجتماعی تشدد نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا۔ اس سانحے کو 28 ماہ گزر چکے ہیں، مگر متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ اگرچہ اس وقت سینکڑوں گرفتاریاں ہوئیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ تر ملزمان رہا ہو گئے اور اصل ذمہ دار آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔
اسی تلخ تجربے نے کوٹ رادھا کشن کے واقعے پر انصاف کی امید کو محتاط بلکہ مشکوک بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہر ایسے واقعے کے بعد مذمتی بیانات تو ضرور جاری ہوتے ہیں، مگر عملی اور پائیدار انصاف کم ہی نظر آتا ہے۔
مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو بھی خاموشی سے فراموش نہیں ہونے دیں گے اور ریاست کو بار بار یاد دلاتے رہیں گے کہ جڑانوالہ میں کیا ہوا تھا، اور وہاں انصاف کی ناکامی نے ہی ایسے نئے واقعات کی راہ ہموار کی۔
اب نگاہیں ایک بار پھر ریاستی اداروں پر مرکوز ہیں۔ آیا کوٹ رادھا کشن کا یہ مقدمہ واقعی کسی منطقی انجام تک پہنچے گا یا یہ بھی ماضی کی طرح محض ایک اور فائل بن کر رہ جائے گا—اس کا جواب وقت دے گا۔
فی الحال، سوال اپنی جگہ موجود ہے: آگے آگے دیکھتے ہیں، ہوتا ہے کیا۔








