پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہے: خواجہ آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہے۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہ، پی ایم ایل این اس پروپیگنڈے کو مسترد کرتی ہے۔
خوجہ آصف کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کے معاملات پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں توشہ خانہ کے معاملات کو ازسر نو تشکیل دیا گیا ہے، جس کے مطابق آئندہ جو تحائف ملیں گے سرکار کی ملکیت ہونگے، کوئی بھی ممبر توشہ خانہ سے تحائف نہیں خرید سکے گا۔ توشہ خانہ کے تحائف اوپن میرٹ پالیسی کے تحت آکشن ہونگے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو ملنے والے تحائف چیک کیئے جاسکتے ہیں۔ یہ پالیسی حکومت کو کمیٹی نے سفارشات کی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے جو کرپٹ پریکٹسز کی ہیں ان کی روک تھام کیلئے سفارشات تیار کی ہیں۔ توشہ خانہ کے دروازے بند کرنا ہونگے تحائف کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ قطعی طور پر کوئی مذاکرات نہیں رہے آئین و قانون کیمطابق الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونگے۔ آرمی چیف کی تقرری بمطابق آئین و قانون ہوگی۔
خوجہ آصف کا کہنا کہ گرے لسٹ سے نکلنے پر پوری وفاقی کابینہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ آرمی چیف اور پاک آرمی نے اس پر بہت ذیادہ ورک کیا ہے، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں کچھ شقوں پر تحفظات ہیں، کچھ شقیں صرف اپوزیشن کو دبانے کے لیے تھیں، ان شقوں کو پارلیمنٹ سے تبدیل کیا، جس کی وجہ سے فیٹف کی گرے سے نکلے، جہاں کریڈٹ جانا چاہیئے وہاں ہی جائے گا سیالکوٹ نیب کا قانون اپوزیشن کیخلاف استعمال ہوا۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے، کل حقیقی آزادی کیلئے پورے ملک میں 30 ہزار بندے نہیں نکلے، تحریک انصاف کی صفوں میں توڑ پھوڑ شروع ہوچکی ہے، عمران خان کو چوہدری پرویز الٰہی کا دھیان رکھنا ہوگا، کل کے فیصلے کے بعد میں نہیں سمجھتا پرویز الٰہی ان کے ساتھ چلیں گے، کوئی جھوٹ کو کتنی دیر چلا سکتا ہے تمام چیزیں کھل کر سامنے آچکی ہیں۔