imam-Bargah

کراچی: ظالموں کا شیعہ امام بارگاہ مہدی علیہ السلام پردھاوا، اہل محلہ میں خوف و ہراس

کراچی (سید طلعت شاہ) غریب آباد لہرو 2 پلاٹ نمبر اے 822 تا اے 825 پر قائم امام بارگاہ مہدی علیہ السلام پر قبضہ کرنے کی کوشش اور 15 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے کا واقعہ پیش آیا جس سے اہل محلہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اہل محلہ نے بتایا کہ انہوں نے چار عدد پلاٹ اے 822 تا اے 825 کل رقبہ 480 گز خرید کر عبادت کے لیے امام بارگاہ مہدی علیہ السلام کی تعمیر کی تھی۔ یہ پلاٹ وقار عرف لاہوتی سے مبلغ رقم 18 لاکھ روپے میں تمام کاغذات ثبوت ملکیتی خریدے تھے۔ 20 جون 2024 کو امام بارگاہ میں محلہ کے 30 سے 35 بزرگ و جوان بیٹھے تھے اسی اثنا میں بدنام زمانہ لینڈ گریبر نواب بگٹی اور وقار عرف لاہوتی جدید ہتھیاروں سے لیس اپنے ساتھیوں کے ہمراہ امام بارگاہ میں گھس آئے اور 15 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا۔ انہوں نے اہل محلہ کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے بھتہ نہ دیا تو وہ امام بارگاہ کو خالی کروا لیں گے اور امام بارگاہ سے منسلک تمام افراد کو جان سے مار دیں گے۔
اس واقعہ کے بعد اہل محلہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ سرپرست اعلیٰ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن فاطمہ فاؤنڈیشن سید عقیل امام ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں آئین پاکستان کے تحت مزہبی آزادی کا حق حاصل ہے۔ جس کے تحت خدارا ہماری نواب بگٹی سے جان چھڑائی جائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ نواب بگٹی اور اس کے دیگر ساتھیوں نے غریب آباد لہروں 2 سمیت دیگر گوٹھوں میں خوف و حراس پھیلایا ہوا ہے۔ یہ افراد دن دہاڑے مکانات پر قبضہ کر لیتے ہیں اور قبضہ نہ دینے کی صورت میں پلاٹ کے مالک کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ بعض اوقات تو اسلحہ کا بھی آزادانہ استعمال کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عرصہ دراز سے ایسے کئی واقعات رونما ہوتے چلے آرہے ہیں. ایسے واقعات انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

اہم نکات:
یہ واقعہ کراچی کے علاقہ غریب آباد لہرو 2 میں پیش آیا۔
بدنام زمانہ لینڈ گریبر نواب بگٹی اور وقار عرف لاہوتی نے امام بارگاہ مہدی علیہ السلام پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے اہل محلہ سے 15 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا۔
اس واقعہ سے اہل محلہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ہیومن رائٹس ارگنائزیشن نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ کراچی میں بڑھتی ہوئی لینڈ مافیا کی کارروائیوں کی ایک اور مثال ہے۔ حکومت کو اس مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں