کرم (نمائندہ خصوصی) ایک جانب مذاکرات کی باتیں اور امن کی خواہشات، دوسری جانب انہی مذاکرات پر منافقت اور پسِ پردہ سازشیں جاری ہیں۔ زمین ہی نہیں، لوگ بھی استعمال ہورہے ہیں۔ ہم اپنے ملک میں امن چاہتے ہیں، لیکن جب کوئی ہمیں چھیڑے گا یا انگلی اٹھائے گا تو جواب ضرور دیا جائے گا۔
25 اکتوبر کو پاک–افغان سرحدی علاقے ضلع کرم کے مقام غاخی میں شرپسند عناصر کی جانب سے دراندازی کی کوشش کی گئی، جسے پاک سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنادیا۔ کارروائی کے دوران 10 حملہ آور مارے گئے، جن میں افغان شہری بھی شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیموں بشمول تحریک طالبان پاکستان TTP , لشکر جھنگوی LeJ اور فتنہ الخوارج متحدہ مجاہدین گروپوں سے تھا جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ناپاک کوشش کر رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر کردیا ہے جبکہ حاصل شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اگر کوئی ملک یا گروہ مداخلت کی کوشش کرے گا، تو مؤثر اور سخت جواب دیا جائے گا۔
مزید تحقیقات جاری ہیں، اور واقعے کے ٹھوس شواہد متعلقہ اداروں کے حوالے کردیے گئے ہیں۔







