آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ میں شرکت کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھارتی ویزوں کے اجرا کا معاملہ حل ہوگیا، پاکستان اسکواڈ کو بھارتی ویزے جاری کردیے گئے ہیں۔ ورلڈ کپ کے لیے گزشتہ دنوں قومی اسکواڈ کا اعلان کیا گیا جس میں زخمی فاسٹ بولر نسیم شاہ کی جگہ سینیئر فاسٹ بولر حسن علی کو شامل کیا گیا۔ ان کی ٹیم میں شمولیت پر ماہرین اور شائقین کرکٹ کی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں تاہم میگا ایونٹ میں ان کو کب اور کیسے استعمال کرکے ٹیم کے لیے مفید بنانا ہے اس بارے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل نے اپنی رائے دی ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے کہا کہ ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان ہوچکا ہے اب ہمیں اس کو سپورٹ کرنا چاہیے اور ٹیم بھی کوشش کرے کہ انڈیا میں اچھا کھیلے اور ایشیا کپ کی پرفارمنس کو نہ دہرائے۔ حسن علی کے انتخاب پر سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ نسیم شاہ ٹیم کا بہترین بولر تھا اور منیجمنٹ کو حسن علی اس کی جگہ بہترین متبادل لگا ہوگا اسی لیے انتخاب کیا اور وہ با صلاحیت بھی ہے جس نے تن تنہا چیمپئنز ٹرافی پاکستان کو جتوائی ہوئی ہے۔ کامران اکمل نے کہا کہ حسن علی نے چیمپئنز ٹرافی میں مڈل میں آکر اپنا کردار بخوبی ادا کیا اور آؤٹ کیے۔ ورلڈ کپ میں بھی اسے مڈل میں استعمال کیا جائے تو ٹیم کے لیے مفید رہے گا وہ بروقت سوئنگ کرے اور وکٹیں لے کر دے۔ تاہم اس کے لیے حسن علی کو مڈل میں ایسے اسپنر پارٹنر کی ضرورت ہوگی جو وکٹیں لے کر دے۔ سابق وکٹ کیپر بیٹر نے کہا کہ اگر ہم بہت زیادہ آل راؤنڈرز کے ساتھ گئے تو پھر ٹیم کا حشر ایشیا کپ جیسا ہی ہوگا۔ انڈیا کی بی ٹیم نے آسٹریلیا کی مضبوط ٹیم کے خلاف 400 رنز کیے تو وہاں کی وکٹیں ایسی نہیں ہیں جہاں بہت زیادہ آل راؤنڈرز کے ساتھ جاکر کسی بڑی ٹیم کو 300 کے اندر اندر آؤٹ کیا جا سکے۔ بھارت میں قومی ٹیم کو اسپیشلسٹ کے ساتھ جانا ہوگا اور چاہے بولرز ہوں یا بیٹرز سب کو پازیٹو رہنا اور کارکردگی دکھانا ہوگی۔







