کراچی میں اسکول کے والدین کو جعل سازی کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کا انکشاف

کراچی (ط ع شاہ) سائبر کرائم کے ایک تشویشناک واقعے نے والدین اور تعلیمی اداروں میں شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے، جہاں نامعلوم ہیکرز مبینہ طور پر اساتذہ کی شناخت استعمال کر کے والدین کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دی ہیرکس اسکول (The Haracks School) جو چیپل سن سٹی، صفورا چورنگی کے قریب، کراچی میں واقع ہے، کے والدین کو مشکوک فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ان کالز میں کال کرنے والے افراد خود کو اسکول کے اساتذہ ظاہر کر کے تصدیقی کوڈ یا دیگر حساس معلومات طلب کرتے ہیں۔
ماہرینِ سائبر سیکیورٹی سید محمد فائق عباس شاہ کے مطابق یہ ایک معروف سوشل انجینئرنگ سائبر حملہ ہے، جس میں ہیکرز اعتماد اور فوری دباؤ پیدا کر کے متاثرہ افراد سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اگر کوئی والدین تصدیقی کوڈ یا او ٹی پی شیئر کر دیں تو ان کا موبائل فون یا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
دی ہیرکس اسکول کی انتظامیہ نے والدین کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ:

  • کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی کال یا پیغام پر توجہ نہ دیں
  • کوئی بھی تصدیقی کوڈ، او ٹی پی یا پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں
  • کسی بھی مشکوک یا فوری درخواست کی براہِ راست اسکول انتظامیہ سے تصدیق کریں
  • مشکوک کالز اور پیغامات کی اطلاع فوراً دیں
    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکول کا کوئی بھی استاد یا عملہ فون یا واٹس ایپ پر حساس معلومات طلب نہیں کرتا۔
    یہ واقعہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ، شناختی جعل سازی اور ڈیجیٹل جرائم کی ایک کڑی ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) پہلے ہی عوام کو جعلی کالز، واٹس ایپ ہیکنگ اور آن لائن فراڈ سے محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر چکا ہے۔
    ماہرین کے مطابق، “ہیکرز خوف اور جلدبازی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر صارفین رک کر تصدیق کریں تو زیادہ تر فراڈ ناکام ہو جاتے ہیں۔”
    والدین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں NCCIA سے رابطہ کریں اور ثبوت کے طور پر کال لاگز یا پیغامات کے اسکرین شاٹس محفوظ رکھیں۔
    یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں آگاہی اور احتیاط ہی سب سے مؤثر تحفظ ہے۔
    یہ خبر زیرِ تفتیش ہے، مزید تفصیلات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں