اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں میں تیزی کے اعلان کے بعد حماس نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی پر رات گئے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 55 افراد شہید ہوگئے۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ترجمان اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں میں اضافے کے اعلان کے بعد چند گھنٹوں کے دوران… خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نےغزہ پر شدید حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، گزشتہ شب اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں مزید 55 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ شام کے سرکاری میڈیا نے عسکری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شام کے 2 اہم ہوائی اڈے غیرفعال ہوگئے ہیں، وزارتِ نقل و حمل نے پروازوں کو اللاذقیہ کی جانب موڑ دیا ہے۔ ذرائع نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے ذریعہ جاری کردہ بیان میں کہا کہ صبح اسرائیل کے فضائی حملے میں دمشق اور حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دمشق کے ہوائی اڈے پر ایک شہری کی موت واقع ہوگئی اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں طے شدہ زمینی کارروائی سے قبل حملے تیز کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب اقوام متحدہ کے اداروں نے غزہ میں تباہ کن انسانی صورتحال سے خبردار کیا ہے۔ خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان جنرل ڈینیل ہگاری نے کہا کہ اسرائیل اب (غزہ پر) بمباری کو تیز کرے گا تاکہ زمینی حملے کے دوران اپنے فوجیوں کو درپیش خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے ہم حملوں کو تیز کر رہے اور خطرے کو کم کر رہے ہیں، ہم حملوں میں اضافہ کریں گے، اس لیے میں نے غزہ شہر کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے جنوب کی جانب بڑھتے رہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے غزہ میں محصور فلسطینی شہریوں کے لیے 38.5 ٹن انسانی امداد مصر کے سینائی علاقے میں روانہ کردی ہے۔ خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ فلسطین کے لوگوں کے لیے بھارتی فضائیہ کا بوئنگ سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ تقریباً 6.5 ٹن طبی امداد اور 32 ٹن امدادی سامان لے کر مصر کے العریش ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوگیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اس امدادی سامان میں زندگی بچانے والی ضروری ادویات، سرجیکل آلات، سلیپنگ بیگ، خیمے، ترپال، حفظان صحت سے متعلق سامان، پانی صاف کرنے کی گولیاں اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، ایران دہشت گرد گروہوں کو اسلحے کی فراہمی بند کر دے جو پورے خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مسودے کے متن میں شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے (بشمول وہ لوگ جو حفاظت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں) ریاستوں کو دہشت گرد حملوں کا جواب دیتے وقت عالمی قانون کی تعمیل کرنی چاہیے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ امریکا کا اس قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ کب کروانے کا ارادہ ہے، قرارداد منظور ہونے کے لیے اِس کے حق میں کم از کم 9 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ لازمی ہوتا ہے کہ روس، چین، امریکا، فرانس یا برطانیہ کی طرف سے کوئی اسے ویٹو نہ کرے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک حالیہ پریس ٹاک میں اعتراف کیا کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے عمل میں خلال ڈالنے کا اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ جوبائیڈن نے واشنگٹن میں فنڈ ریزنگ کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ حماس کے اسرائیل پر حملے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ میں سعودی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر بات کرنے والا ہوں، سعودی اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ فلسطینیوں کو مزید تنہا کردیتا جنہیں اس پورے عمل سے باہر رکھا گیا تھا، حالانکہ اس معاہدے کا ان کے مستقبل پر سب سے زیادہ اثر پڑنا تھا۔






